فوری رابط: ۱۹۵۱-۲۵۵۳۶۶۹۱
Mainbanner

سرکار آیت اللہ آغا سید مہدی

آپ کی سوانح حیات بیان کرنے سے قبل آپ کے خاندانی پس منظر کو جاننا ضروری ہے۔آپ سادات موسوی اور سلسلہ قطب الاقطاب حضرت سید میر شمس الدین آراکی رحمتہ اللہ علیہ کی اولاد سے ہیں۔سرکاری آیت اللہ العظمیٰ الحاج آغا سید مہدی الموسوی الصفوی نجفی رحمۃ اللہ علیہ جناب سید حیدر موسوی الصفوی کے فرزند اورموجودہ دور میں خاندان موسوی کے ؤ سس ہیں۔ آپؒ کے کشمیر واپس آنے سے پہلے بیشتر علماء یہاں موجود تھے اورجن سے بعد میں آپ کواس وقت کے سرمایہ دار اور مستکبر طبقے سے مقابلہ کرنا پڑا تاکہ آپ کی عظیم اور انقلاب آفرین شخصیت کا اندازہ صحیح طور سے ہو سکے۔اس کے علاوہ وہ پس منظر بھی سامنے رکھناہے جس کے باعث آپ پر ذی غرض اشخاص نے اعتراضات کے طور مار باندھے۔

جس وقت کا تذکرہ کیا جاتا ہے اس وقت کشمیر میں شالبافی کی صنعت عروج پر تھی۔شیعوں میں سے بھی چند سرمایہ داران شالبافی کے کارخانوں کے مالک تھے جن کے مزدور سب شیعہ تھے۔یہ کا رخانہ داران مقابلتاً بہت کم مزدوری دیتے تھے کیونکہ اس وقت حالات کچھ ایسے تھے کہ شیعہ مزدورکسی سنی مسلک کے کارخانہ دار کے پاس نہیں جا سکتے تھے اور اگر جاتے بھی تو انہیں کام نہیں دیا جاتا تھا۔اس لئے شیعہ مزدور اپنے ہم مسلک شیعہ سرمایہ دار وں کے ہی رحم و کرم پر تھے۔جو وہ چاہے ان غریبوں سے کرواتے تھے ۔شالبافی کے بغیر اور کوئی دوسرا کارخانہ موجود نہ تھا جس میں کام کر کے یہ مزدور اپنا پیٹ پالتے۔ان مزدوروں کی حالت قابل رحم تھی۔یہ معمولی جھونپڑیوں میں رہتے تھے کیونکہ 1246ھ /1830ء کے قتل و غارت سے ان کا سب کچھ ضائع ہو چکا تھا ۔اسلئے یہ مفلوک الحال طبقہ کا رخانہ داروں کو ہی اپنے جان و مال کے محافظ خیال کرتے تھے اور ان کیخلاف لب کشائی تو دور اُف تک نہیں کرسکتے تھے۔وہ معمولی باتوں پر سختی سے پیٹے جاتے تھے۔کارخانوں کے کام سے فارغ ہو کر ان مزدوروں کو بعض دفعہ کار خانہ داروں کے گھر کا کام بھی کرنا پڑتا تھا۔ان حالات کے باعث شیعہ عوام مذہبی فرائض سے بہت حد تک نا آشنا تھے۔

اسی عرصہ میں ایران سے ایک شیعہ عالم،فاضل اور مبلغ آغا سید ابراہیم کشمیرآئے۔انہوں نے دیکھا کہ یہاں کے شیعہ مذہب سے بالکل نا واقف ہیں۔وہ شیعہ اس لئے کہلائے جاتے ہیں کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس میں شامل ہو کر ماتم کرتے ہیں۔سید موصوف نے جڈی بل میں مواعظہ کا سلسلہ شروع کیا اور عوام کو نماز با جماعت پڑھانے لگے۔ظہر اور عصر کے وقت مزدور کا رخانوں سے نکل کر نماز پڑھنے اور موعظ سننے جاتے تھے۔اس سے کارخانہ داروں کے کام میں حرج ہونے لگا اور وہ آغا سید ابراہیم کے خلاف ہو گئے۔وہ سید موصوف کو مُلک بد کرنے کی تدابیر سوجھنے لگے چونکہ مہاراجہ کے پاس ان کا کوئی اثر و رسوخ نہ تھا اس لئے انہوں نے چند دیگر سرمایہ داروں کو اپنے ساتھ ملایا اور حکیم محمد عظیم کے پاس ایک وفد لیکر گئے۔اراکین وفد نے قسمیں کھا کر آغا سید ابراہیم کے متعلق ایسی باتیں منسوب کیں جو شیعہ مسلک کے منافی تھیں اور حکیم صاحب کو یقین دلایا کہ اگر سید موصوف کو کشمیر سے فوراً نکال نہ دیا توجائے تو یہاں کے شیعہ اپنے مسلک سے منحرف ہو جائیں گے۔حکیم صاحب نے ان کے کہنے پر اعتبار کیا اور مہاراجہ سے آغا سید ابراہیم کو کشمیر سے نکلوادیا۔یہاں سے جانے کے بعد سید موصوف نے فرمایا’’شیعیان کشمیر حسین ؑ رامی دانند مگر خدا رانمے شناسند‘‘یعنی’’شیعیان کشمیر حضرت امام حسین ؑ کا نام جانتے ہیں لیکن خدا کو نہیں پہچانتے‘‘۔