انجمن شرعی شیعیان درج ذیل شعبہ جات پر مشتمل :

انجمن شرعی شیعیان درج ذیل شعبہ جات پر مشتمل :
  • ۱۔ شعبہ تعلیم
  • ۲۔ شعبہ تبلیغ
  • ۳۔ شعبہ عزاداری
  • ۴۔ شعبہ اوقاف
  • ۵۔ شعبہ روابط عمومی
  • ۶۔ شعبہ قضاوت
  • ۷۔ شعبہ مالیات
  • ۸۔ شعبہ رفاہ عامہ
  • ۹۔ شعبہ سیاست
  • ۱۰۔ شعبہ امداد و مساکین و مستحقین
  • ۱۱۔ شعبہ نشر و اشاعت شعبہ تعلیم:۔ ۱۔علاقوں میں مردوں اور عورتوں کو احکام دین اور لازمی دنیاوی امور سے واقف کرنے کیلئے تعلیم بالغان کا اہتمام کرنا۔ ۲۔علاقوں میں حسب ضرورت بچوں کیلئے مدارس کا اہتمام ۔ مدارس کیلئے تربیت یافتہ مدرسین کی تقرریْ ۳۔مدرسوں کی تربیت کیلئے کیمپوں کا انعقاد کرنا ۔ ۴۔مکاتب سے فارغ التحصیل ہوکر قابل اور خواہش مند طلباء و طالبات کو مزید تعلیم کیلئے پہلے حوزہ علمیہ جامعہ باب العلم میر گنڈ بڈگام ، مکتب زھراؐ حسن آباد سرینگر می داخلہ دینا اور وہاں سے فارغ التحصیل ہوکر اعلیٰ تعلیم کیلئے ایران بھیجنا۔ شعبہ تبلیغ: ۔ ۱۔ ریاست کے تمام شیعہ آبادی والے علاقہ جات میں تبلیغی دوروں کا اہتمام کرنا اور نماز با جماعت کیلئے ائمہ کی تعیناتی۔ ۲۔مرکزی نوعیت کے علاقہ جات میں نماز جمعہ کے قیام کا بند و بست کرنا۔ ائمہ جمعہ و جماعت کو باضابطہ طور پر ماہا نہ شہریہ دینا۔ ۳۔دیہہ کمیٹیوں کے صاحب فہم اراکین کو اس بات کا پابند بنا نا کہ اپنے زیر اثر علاقوں میں احیائے شریعت کی جد و جہد کریں اور غیر شرعی حرکات کا قلع قمع کریں۔ ۴۔علمائے دین اور صدر محترم کا علاقہ جات می تبلیغی دورے۔ شعبہ عزاداری:۔ ۱۔چہاردہ معصومینؑ کے ایام وفات پر حسب ہدایات صدر محترم کے مجالس کا انعقاد۔ ۲۔مرکزی نوعیت کے جلسون اور جلوسوں کو شعبہ کے اہتمام سے اور متعلقہ کمیٹی کی معاونت سے روبہ عمل لانا اور اس سلسلے میں اخراجات کا ریکارڈ رکھنا وصول ہونے والی آمدن کو مرکزی کھاتہ میں جمع کرانا۔ ۳۔عزاداری کے علاقائی جلسہ و جلوس کی نگرانی کرنا ۔ ۴۔رضا کاروں کی ٹیموں کو عارضی طور پر متعلقہ پروگراموں کیلئے منظم کرنا۔ ۵۔متعلقہ تقاریب کے سلسلے میں نشر و اشاعت ٹرانسپورٹ و دیگر سہولیات کی فراہمی، بیت الخلاء وضو خانے اور غسل خانوں کی عارضی سہولیات، جلسہ گاہوں اور جلوسوں میں خواتین کی شرکت کیلئے جدا گانہ مقامات پر سبیل گاہوں کا انتظام ، ذاکرین کے پروگراموں کی ترتیب و نگرانی۔ ۶۔حکام اور قانونی اداروں کے ساتھ ضروری روابط اور اجازت کا حصول۔ ۷۔کشمیری مراثی کے تجزیہ اور اصلاح کیلئے ماہرین کی ایک کمیٹی کا قیام تاکہ شرعی اور واقعاتی اعتبار سے کشمیری مراثی کا تجزیہ کیا جائے۔ جلوسوں میں نوحہ خوانی سے پہلے کسی بھی نوحے کا واقعاتی ، شرعی اور ادبی لحاظ سے جائزہ لینا۔ نوحوں میں خلاف شرح دھنوں اور طرحوں کا جائزہ۔ ۸۔پروگراموں کو اس طرح ترتیب دینے کی طرف توجہ مبذول کرانا تاکہ شعائر الاسلام نماز وغیرہ کی اوقات کا مناسب طور احاطہ کرنا تاکہ لمبے جلوسوں کے دوران نمازیں قضا نہ ہو۔سبیل گاہوں فسٹ ایڈ مراکز کا انتظام کرنا۔ مجلس اور جلوس ہاے عزا ء کے دوران اختلاط مرد و زن کو روکنا۔ شعبہ اوقاف: ۱۔ ریاست میں فرقہ شیعہ امامیہ کے سارے اوقاف کی فہرست ضروری تفصیل کے ساتھ مرتب کرنا۔ ۲۔ انجمن شرعی کے دائرہ کار میں آنے والے تمام اوقاف کے انتظام کو موثر بنانا اس کے مشمولہ و ملحقہ اراضی باغات اور دوسری جائیداد غیر منقولہ مثلاً مکانات و دُکانات وغیرہ کا رجسٹر مرتب کرنا وقتاً اس کے ذرائع آمدن کے بارے میں شعبہ مالیات کو باخبر رکھنا ۔ اوقف انجمن کی تولیت و نظارت میں وہ مسجدیں بھی شامل ہونگی جن کی تعمیر انجمن شرعی کے اہتمام سے ہوئی ہو۔ ۳۔ انمن تمام موجودہ اوقاف کے گزشتہ حسابات اور دوسرے متعلقہ امورات کی پڑتال کیلئے شعبہ کی تجزیاتی کمیٹی رپورٹ مرتب کرتی رہے گی۔ جس کی روشنی میں متعلقہ علاقوں میں کمیٹیوں کو ذمہ داریاں سونپ دی جائیں گیں اور رپورٹ کی روشنی میں تجدید و تنقید کو موثر بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ ۴۔ اوقاف کی تعمیر و ترقی کیلئے منصوبہ بند پروگراموں کو ترتیب دینا خاص وقفوں کے ساتھ حسب امکان وقف کے کسی حصہ زمین یا مکان کی نسبت سے دوسری جگہ اسی وقف کی آمدنی یا وسائل سے کوئی منافع بخش صنعتی یونٹ یا کمپلیکس قائم کرکے اس کے آمدن کو متعلقہ وقف کی تعمیراتی تعسیع یا فلاحی اہداف میں لگادینا۔ ۵۔ ضلعوں اور علاقوں سے رابطہ کے بعد مرکزی اور علاقائی کنٹرول کی نشاندہی کی روشنی میں مسعولیت کا تعین کرنا علاقوں میں جو اوقف مقامی نوعیت کے ہوں لیکن انجمن شرعی کے اہتمام میں ہوں اُن کی نگرانی کیلئے موثر اور جائز ذرائع کو تلاش کرنا۔ ۶ ۔ اوقاف کی طبقہ بندی کے مطابق حسابات کی تدوین۔ وقف جات اور دیگر تنظیمی اثاثوں کی تولیت کے اختیارات تنظیم کے سربراہ کو تفویض ہونگے ۔وقف جات کے انتظام و انصرام ، تعمیر و تجدید اور تصرف کے حوالے سے تنظیم کے سربراہ جو کہ متولی اوقاف بھی ہیں کو مکمل اختیارات حاصل ہونگے اور یہ اختیارات اس منصب پر براجمان ہونے والے ہر نئے صدر کو خود بخود منتقل ہونگے۔ البتہ تنظیمی اثاثوں کی خرید و فروخت کے حوالے سے متولی اوقاف کو مجلس عاملہ کی تائید حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ شعبہ روابط عمومی: ۱۔ اتحاد و بھائی چارہ قائمکرنا خصوصاً اتحاد بین المسکمیں کیلئے انتھک کوششیں جاری رکھنا۔ ۲۔ اسلام کی سر بلندی اور امت مسلمہ کے فلاح و بہبود کیلئے دیگر دینی تنظیموں کے ساتھ روابط رکھنا اور اشتراک عمل۔ ۳۔ عوامی اجتماعات کنوینشنوں اور تقریبات کا اہتمام۔ ۴۔ تمام نیک کاموں اور انسانیت کی خدمت کیلئے بلالحاظ مذہب و ملت فلاحی خیراتی اور دیگر انجمنوں کے ساتھ تعاون۔ شعبہ قضایا: ۱۔ چونکہ قرآنی آیات اور احادیث کی رو سے انبیاء کرامؑ کی بعثت کا بنیادی مقصد عدل و انصاف کی فراہمی ہے لہذا عدل و عدالت اسلام میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے بالخصوص ایسے ممالک میں جہاں مسلمانوں پر غیر اسلامی حکومتوں کے طاغوتی قانون مسلط ہیں وہاں فرزندان توحید کو عدل و انصاف کی فراہمی میں علماء اسلام اور دینی تنظیموں کا رول انتہائی اہمیت کا حامل ہے ان ہی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان اہم ترین دینی فریضے کی ادائیگی کیلئے شعبہ قضاوت کا قیام عمل میں لانا ایک ناگزیر ضرورت سمجھتی ہے اور باضابطہ ایک شرعی عدالت کا قیام عمل میں لاتی ہے۔ انجمن کی عدالت شرعی میں مسلک اثناعشری کے علاوہ دیگر مسلمان فرقوں کے لوگ حتیٰ کہ غیر مسلم حضرات بھی داد رسی کی غرض سے اپنے مقدمات دائر کرسکتے ہیں۔ ۲۔ عوام کے روز مرہ کے قضیہ جات کو قرآن و سنت اور اسوۂ اہلبیتؑ کی روشنی میں حل کرنا تاکہ سرکاری عدالتوں میں لوگوں کا وقت اور سرمایہ رائیگاں نہ ہونے پائے۔ ۳۔ بلا لحاظ مذہب و ملت شرعی عدالت کے دروازے ہر ایک کی داد رسی کیلئے ہر وقت کھلے رکھنا۔ ۳۔ انفرادی اور اجتماعی معاملات میں قضاوت ۔ ۴۔ بلا معاقضہ عدل و انصاف کی فراہمی۔ ۵۔ ترویج نکاح اور طلاق سے لیکر شرعی بیعہ۔ ہبہ نامہ تقسیم وراثت کے قضیہ جات کی شرعی عدالت میں شنوائی اور فریقین کو باہم شیر و شکر کرنا۔ شعبہ مالیات: بنیادی کمیٹی کی ذیل میں انجمن کے دائرے کار کا احاطہ کرنے والے ذرایع آمدن کو عمومی طور پر دو نوعیتوں میں تقسیم کیا گیا ہے ان میں سے جس آمدنی کے اُوپر براہ راست انجمن کے شعبہ مالیات کا مرکزی کنٹرول ہوگا اس کی نشاندہی حسب ذیل ہے۔ ۱۔ ایسے رقوم جو انجمن شرعی کے نام پر کسی بیرونی ادارہ سے فراہم ہوجائیں چاہے وہ انجمن کے کسی مخصوص شعبہ کیلئے ہی کیوں نہ ہو۔ ۲۔ بنیادی کمیٹی یا ضلع کے اہتمام سے جو آمدن نقد و جنس کی صورت میں انجمن کو حاصل ہو ضلع یا علاقہ کی آمدن کی نوعیت اور شرعی اجازت کی رو سے ذیل میں خصوصی طبقہ بندی کی جائے گی۔ ۳۔ عمومی نیت کے تحت انجمن کے اوقاف اور امام باڑوں پر صیغہ جمع کے ساتھ اعلان و اپیل کے تحت جو آمدن حاصل ہوجائے۔ ۴۔ انجمن کے نام سے امورِ خیر کی نسبت سے جو آمدن حاصل ہو ۔ ۵۔ انجمن کے اقف سے ملحقہ کسی علاقہ میں جائیداد مثلاً اراضی ، کھیت ، نخلستان سے جو آمدن حاصل ہو۔ ۶۔ چرم وقربانی ، مُد، کفارہ، دیت ، سہم امام، فطرہ ، صدقات، خیرات، امام ضامن، ریلیف، عطیات، اعانت، سہم سادات اور ہنگامی چندہ وغیرہ۔ مذکورہ مدات کیلئے شوبہ مالیات میں الگ کھاتے ہونگے۔ رسید بکوں کو الگ مطرح کرنے یا رسیدوں پر مدات کی نشاندہی کیلئے قوائد ذیل مرتب ہونگے۔ ۷۔ جامعہ باب العلم کیلئے مخصوص تعلیم و انتظامات کے سلسلے میں جو عطیات حاصل ہونگے وہ مرکزی کھاتہ میں اسی نام اور مد کے تحت جمع کئے جائیں گے اسطرح کسی علاقہ سے جامع باب العلم کے نام پر نخلستان کھیت کھکیان یا دوسرے اراضی وغیرہ سے کوئی آمدن حاصل ہو وہ بھی اس مد کے حولاے سے مرکزی کھاتہ میں جمع کی جائے گی جو رقوم عطیات خصوصی طور پر جامعہ باب العلم یا شعبہ تعلیم کیلئے اسی پر صرف کئے جانے کی غرض سے حاصل ہونگے ان کو شعبہ تعلیم کیلئے خاص اجراء شدہ رسید بکوں پر جمع کیا جائے گا۔ ۸۔ کسی مرکزی اہتمام سے قائم کئے گئے یونٹ سے یا اوقاف کے کسی کمپلیکس سے جو آمدنی آئے اسکو بھی مرکزی کھاتے میں جمع کیا جائے گا۔ ۹۔ علاقائی مدارس کیلئے الگ رسید بک طبع کئے جائیں گے جن سے حاصل ہونے والی آمدن کا اطالق علاقہ کے مدرسہ پر ہی ہوگا البتہ شعبہ تعلیم سے اجراء شدہ گرانٹ میں سے علاقائی مدارس کو حسب امکان و ضرورت امداد دے دی جائے گی ہر مدرسہ حسابات آمدن و خرچہ جات کیلئے کیش بک رکھے گا۔ ۱۰۔ عمومی زرِ رُکنیت اور خصوصی زرِ رُکنیت کے تمام رقومات مرکزی کھاتے میں جمع کئے جائیں گے۔۱۱۔ کسی علاقہ میں انجمن کے زیر اثر یا زیر اہتمام امام باڑہ ، آستانہ ، مقبرہ ، مسجد ، عید گاہ اور خانقاہ وغیرہ پر خاص طور سے اسی پرخرچ کئے جانے کی نیت سے حاصل ہونے والی آمدنی نیز علاقہ کے عزاء جلاس علم شریف وغیرہ کے نذر و نیاز اسی علاقہ کے کسی وقف کیلئے دیہہ کمیٹی کو متعلقہ رسید بک اجراء کرنے کیلئے متعلقہ صدور سے خود و صولنا لازم ہوگا کسی مومن کی طرف سے مخصوص کی گئی مشروط زمین کے فصل کی آمدنی جسے علاقے میں ہی مخصوص علم شریف تعزیہ امام باڑہ اور دیگر تبرکات بالخصوص وقف پر صرف کرنا مقصود ہو ایسی آمدنی کا حساب معہ اخراجات کا ریکارڑ دیہہ کمیٹی کو رکھنا ضروری ہوگا جس کی پڑتال شعبہ مالیات کرے گا۔ ۱۲۔ رسید بُکوں کا ریکارڑ وصول و اجراء شعبہ مالیات کرے گا۔ ۱۳۔ شعبہ مالیات اپنے اراکین کی وساطت سے ہنگامی چندہ مہم یا کوئی مخصوص فنڈ جسے مجلس عاملہ ضروری قرار دیگا کا بھی اہتمام کرے گا اور ذرائع آمدن کی وسعت و ترقی کی نشاندہی کرے گا۔ شعبہ رفاع عامہ: اس شعبہ کے تحت مسجد و امام باڑوں اور مکاتب کی تعمیر و مرمت کیلئے حتیٰ الامکان مالی امداد فراہم کی جائے گی۔پسماندہ دیہات میں غسل خانوں اور بیت الخلاء کی تعمیر و مرمت کیلئے بھی رقومات شرعی سے امداد کی جائیگی۔ شعبہ سیاست: ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سیاست دین سے جدا نہیں سیاست کو دین سے جدا کرنے والے اسلام کو دانستہ طور پر مسجد و خانقاہوں میں قید کروانے کے مرتکب ہیں۔ علماے اسلام کا عملی سیاست سے دستبردار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ دانستہ طور پر انسانیت کے نظم و نسق کی باگ دوڑ کفار و مشرکین کے ہاتھوں سونپ رہے ہیں۔ علماے اسلام میں معززین افراد وہ ہیں جو اپنے زمانے کے سیاسی حالات پر دقیق نظر رکھتے ہوں اور جہاں اسلامی حکومت کے قیام کے امکانات معدوم ہوں وہاں پر کم از کم اپنے سیاسی کردار سے اسلام اور امت مسلمہ کے وسیع ترین مفادات کا دفاع اور تحفظ کرسکیں۔ جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے شعبہ سیاست کا مقصد بھی یہی ہے ریاست کے اکثریتی فرقے کی پر مبنی بر حق آواز کے ساتھ آواز ملاکر اسلام اور امت کے تحفظ و بقاء کیلئے سرگرم عمل رہنا اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً حکومت کی غیر اسلامی اور عوام کش پالسیوں کے خلاف عملی احتجاج کرکے حکومت کو اپنا وطیرہ بدلنے کیلئے آمادہ کرنا۔ تحریک آزادی جموں و کشمیر میں شعیان کشمیر نے ماضی میں بھی قابل تعریف رول ادا کیاہے اور آج بھی انجمن شرعی شیعیان حریت کانفرنس کی ایک بڑی اکائی کے طور پر تحریکی خدمات انجام دے رہی ہے سیاسی شعبے میں بالغ نظر اور دور اندیش افراد کو رکنیت دینااولین ترجیحات میں سے ہے۔ وادی کے اطراف و اکناف میں عوامی جلسہ و جلوسوں کا انعقاد۔ شعبہ امداد مساکین و مستحقین:فرقہ شیعہ اثنا عشریہ کشمیر میں غریب و مساکین کی ایک خاصی تعداد امداد کی مستحق ہے انجمن شرعی شیعیان اپنے محدود وسائل بالخصوص رقومات شرعی سے حاجت مندوں کی مالی معانت کرنے کی جد وجہد کرے گی۔ تنظیم بلا لحاظ مذہب و ملت حاجت مندوں کی مالی اور اخلاقی معاونت کرے گی۔ شعبہ نشر و اشاعت: موجودہ دنیا میں قوموں کے بناو بگاڑ میں میڈیا کا ہی سب سے بڑا عمل و دخل ہے جس قدر میڈیا سے وابستہ افراد مخلص اور خدا ترس ہوں اسی قدر ایک مہذب اور صالح معاشرے کی تعمیر میں حائل رکاوٹیں دور ہوسکتی ہیں اخبارات اور رسل و رسائل کے بغیر جدید دنیا کا تصور ہی نامکمل ہے چونکہ الیکٹرانک میڈیا پر ہمیشہ حکومت کی گرفت مظبوط ہوتی ہے لہذا ایسے اداروں سے عوامی خواہشات کی ترجمانی نہیں ہوسکتی اور نہ حق و صداقت کے تقاضے پورے ہوسکتے ہیں ان حالات میں اخبارات اور رسالوں وغیرہ سے ہی توقع وابستہ کی جاسکتی ہے ۔ انجمن شرعی شیعیان کا شعبہ نشر و اشاعت ہمیشہ اعلان حق و صداقت اور مشن اہلبیتؑ کو اپنا شعار بناکر جموں و کشمیر کے شیعہ فرقے کی نمایندگی اور ترجمانی کرے گا۔ تنظیم مظلوم و محکوم کشمیری قوم پر جاری بھارتی مظالم کے خلاف آواز حق بلند کرے گی۔مقامی اخبارات میں شیعیان جموں و کشمیر کی دینی ادبی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کی تشہیر شعبہ نشر و اشاعت کا خاص مقصد ہوگا اس کے علاوہ مذہبی معلومات اور شرعی مسائل پر مشتمل کتابچوں کی اشاعت بھی کی جاتی رہیگی۔