فوری رابط: ۱۹۵۱-۲۵۵۳۶۶۹۱
Mainbanner

عید سعید مبعث

روز مبعث حقیقت میں ایسے پیغام کا پرچم بلند کئے جانے کا دن ہے جو بنی نوع انسان کیلئے بے مثال اور عظیم ہے۔ بعثت نے علم و معرفت کا پرچم بلند کیا ہے۔ دوسری طرف روز بعثت عدل، رسالت اور اعلی اخلاق کیلئے جدوجہد کا نام ہے۔ “بعثت لاتمم مکارم الاخلاق” مبعث انسان کی… View Article

روز مبعث حقیقت میں ایسے پیغام کا پرچم بلند کئے جانے کا دن ہے جو بنی نوع انسان کیلئے بے مثال اور عظیم ہے۔ بعثت نے علم و معرفت کا پرچم بلند کیا ہے۔ دوسری طرف روز بعثت عدل، رسالت اور اعلی اخلاق کیلئے جدوجہد کا نام ہے۔ “بعثت لاتمم مکارم الاخلاق”

مبعث انسان کی سعادت کی بنیاد اور ہمیشہ کیلئے خیر و برکات کا سرچشمہ ہے۔ روز بعثت کے دن کو منانا صرف مسلمانوں کا ہی وظیفہ نہیں بلکہ مظلوم بشریت کو چاہئے کہ وہ پیغمبر اسلام ﷺ کے فرامین کا احترام اور قدردانی کرے کیونکہ انسان کی نجات ان تعلیمات میں پوشیدہ ہے۔

وہ چیز جو عید سعید مبعث سے درس حاصل کرنے اور اس سے صحیح طور پر مستفید ہونے کیلئے ہمارے نزدیک اہمیت کی حامل ہونی چاہئے وہ اپنے فہم و درک کے مطابق بعثت کے پیغام کو سمجھنا ہے۔ مختصر طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ بعثت پیغمبر اکرم ﷺ نے انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کیلئے اہداف و مقاصد بھی معین کئے ہیں۔

روایت میں ہے کہ”ما بعث اللہ نبیاً قط حتی یسترعیہ الغنم یعلمہ بذالک رعیة الناس” خد انے ہر گز کسی نبی کو مبعوث نہیں کیا جبکہ اس سے بھیڑ بکریوں کی چوپانی کا کام نہیں کرایا ، تاکہ وہ اس طریقہ سے انسانوں کی نگہبانی کا طریقہ سیکھ سکیں ۔(بحار الانوارج ۱۱ ، ص ۶۴)

یعنی ایک تو رنج و تکلیف بر داشت کیا ، دوسرے کم شعور افراد سے مقابلہ میں صبر و تحمل کا تجربہ کیااور کوہ و صحرا اور فطرت و مادہ کی آغوش میں توحیدو عرفان کے عظیم سبق حاصل کئے ۔

اور ایک حدیث میں آیاہے ” موسیٰ بن عمرا ن“ نے اپنے خدا سے سوال کیا کہ میں کس بناء پر اس مقام تک پہنچا؟خطاب قدر ت ہوا ، کیاتجھے وہ دن یاد ہے جب گوسفند کا ایک بچہ تیرے گلہ سے بھاگ گیا تھا ؟ پھر تو اس کو دوش پر اٹھا کرگوسفندوں کے گلہ میں واپس لے آیا، میں نے اسی بناء پر تجھے مخلوق کا سر پرست بنا دیا ہے۔ ( ایک جانور کے مقابلہ میں تیرا یہ عجیب و غریب تحمل و حوصلہ ، تیری عظیم روحی قدرت کی دلیل ہے۔ لہٰذا تو اس عظیم مقام کے لائق ہے۔

خداوند عالم نے آنحضرتﷺ پر ایمان لانے کے علاوہ انسانوں پر رسول خدا کے متعلق کچھ فرائض اور ذمہ داریاں بھی رکھی ہیں اور قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ان فرائض اورذمہ داریوں کو بیان بھی کیا ہے ۔ یہاں پر رسول خداﷺکے متعلق صاحبان ایمان کی چند اہم ذمہ داریوں کو بیان کرتے ہیں ۔

رسول خدا ﷺ کی اطاعت وپیروی

ہر انسان کو الٰہی رہنمائوں بالخصوص نبی اکرم کی بے چون وچرا اطاعت کرنا چاہئے اور آپکے اوامر ونواہی چاہے وہ اجتماعی وسماجی امور سے متعلق ہوں یا ان کا تعلق انفرادی امورسے ہو انھیں بے چون وچرا قبول کرنااور اس پر عمل کرنا چاہئے۔ قرآن کریم بعض مقامات پر تمام انسانوں کو مخاطب قرار دے کر انھیں رسول کی اطاعت وپیروی کا حکم دیتا ہے :” اطیعواللہ واطیعوالرسول” اے لوگو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔

اور بعض مقامات پر صاحبان ایمان کو اطاعت رسول ﷺکی دعوت دیتا ہے: ” یَاٲَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا ٲَطِیعُوا اﷲَ وَٲَطِیعُوا الرَّسُولَ وَٲُولِی الٲَمرِ مِنکُم ” اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت وپیروی کرو ۔

اطاعت رسول کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺجس راستے پر چل رہے ہیں، وہی صراط مستقیم اور خدا کا راستہ ہے اور اسی راستے پر چلنا اور آپ کی اطاعت کرنا ہر ایک پر واجب ولازم ہے۔ قرآنی نقطے نظر سے رسول اکرم کی اطاعت ، خدا کی اطاعت ہے : من یطع الرسول فقد اطاع اللہ۔جس نے رسول اکرم کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی ۔

اطاعت کا دائرہ بہت وسیع وعریض ہے، لہٰذا آپ کی اطاعت سے مراد ان تمام احکام وقوانین کی پیروی ہے جو آپﷺپر خدا کی جانب سے نازل ہوئے ہیں اور جس کاحکم رسول اکرم نے دیا ہے اور وہ وحی پروردگار کے مطابق ہے اور اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے .

حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں : میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندہ اور رسول ہیں ، آپﷺنے ہمارے درمیان پر چم حق کو چھوڑا ہے جو اس سے آگے نکل گیا وہ دین سے خارج ہوگیا جو پیچھے رہ گیا وہ ہلاک ہوگیا اور جو اس کے ساتھ رہا وہ کامیاب ہوگیا ۔ (نہج البلاغہ خطبہ ۰۰۱ )

رسول اکرم کے ساتھ خیانت نہ کرنا

صاحبان ایمان کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ خدا اور اس کے رسول کے ساتھ کسی بھی طرح کی خیانت نہ کریں : یَاٲَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَخُونُوا اﷲَ وَالرَّسُولَ” ایمان والو !خدا ورسول کے بارے میں خیانت نہ کرو .

علامہ طبرسی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : اللہ کے ساتھ خیانت سے مراد واجبات الٰہی کو ترک کرنا اور رسول اکرم ﷺکے ساتھ خیانت سے مراد آپ کی سنت وسیرت اور قوانین واحکام کو نظر انداز کردینا ہے۔

انفرادی ذمہ داریاں

انفرادی ذمہ داریوں سے مراد وہ امور ہیں جو سماجی سطح سے قطع نظر ہر فرد فرد سے متعلق ہیں اور ہر ایک پر فرداً فرداً ان پر عمل کرنا واجب ولازم ہے۔

تمام انبیائ اور اوصیائے الٰہی کی آمد کا مقصد انسان کو ظاہری اور باطنی، مادی اور معنوی رشد و کمال کی منزلوں تک پہنچانا اور ان کے نفسوں کو ہر طرح کی برائیوں اور آلودگیوں سے پاک وپاکیزہ بنا کر انھیں بشریت کی معراج پر لے جانا ہے۔ لہٰذا انسانوں کے لئے ایسے دلسوز ، شفیق اور مہربان رہنماؤں بالخصوص رسول خدا کے متعلق انسانوں کی کچھ اجتماعی ذمہ داریوں کے علاوہ کچھ انفرادی ذمہ داریاں بھی رکھی گئیں ہیں تاکہ ہر انسان بالخصوص صاحبان ایمان ان پر عمل کرتے ہوئے ایسے الٰہی رہنماؤں کی قدر و منزلت کو سمجھیں اور ان کی اطاعت کے پرتو میں پروردگار کی عبودیت و بندگی کی راہوں کو طے کریں جو ان کی خلقت کا مقصد ہے۔

۱۔ محبت نبی ﷺاور اہل بیت ؑ

نبی کریم ﷺاور آپ کے اہل بیت اطہار (ع) کی محبت، ایمان کو مکمل کرنے والی ایک اہم شے ہے جیسا کہ رسول اکرم ﷺنے ارشاد فرمایاہے: کسی مومن کا ایمان کامل نہ ہوگا سوائے یہ کہ میں اس کے نزدیک خود اس سے زیادہ محبوب ہوں اور میری عترت اس کی عترت سے زیادہ محبوب ہو۔(بحار الانوار،ج۷۱،ص۳۱)

نیز ارشاد فرمایا: “المرء مع من احب” انسان اپنے محبوب کے ساتھ محشور ہوگا۔(بحار الانوار،ج۷۱،ص۳۱)

البتہ محب سے مراد وہ ہے جواپنے آپ کو محبوب کے رنگ میں رنگ لے اور اس کی رفتار و کردار کو اپنے لئے نمونۂ عمل قرار دینے کی کوشش کرے۔

محبت اہل بیت (ع) ایک بہت بڑی ذمہ داری اور اہم فریضہ ہے اسی لئے قرآن کریم نے اسے اجر رسالت کے عنوان سے مسلمانوں سے طلب کیا ہے: قُل لاَٲَسٲَلُکُم عَلَیہِ ٲَجرًا ِلاَّ المَوَدَّۃَ فِی القُربَی ۔(سورۂ شوریٰ، آیت ۳۲) آپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میں تم سے تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اسکے کہ میرے اقرباء سے محبت کرو۔

دوسرے لفظوں میںاہل بیت ٪ سے محبت، رسول خدا ﷺسے محبت کا لازمہ ہے اور دونوں ایک دوسرے کے بغیر قابل تصور اور قابل قبول نہیں ہیں۔

۲۔ درود و صلوات بھیجنا

رسول خدا کے متعلق ہماری ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ ہم آپ ﷺپر درود و صلوات بھیجیں۔ قرآن کریم نے نبی کریم پر مومنین کے درود و سلام کو خداوندعالم اور ملائکہ کے درود و سلام کی صف میں قرار دیا ہے اور مومنین کو حکم دیا ہے کہ وہ بھی مرسل اعظم پر درود و صلوات بھیجیں: انَّ ﷲَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ یَاٲَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیہِ وَسَلِّمُوا تَسلِیمًا۔ امام جعفر صادق ؑ نے نبی کریم پر دورد و سلام کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: جب بھی رسول خدا ﷺکا اسم گرامی لیا جائے۔ توآنحضرتﷺپر زیادہ سے زیادہ صلوات بھیجو، اس لئے جو شخص آپﷺپر ایک مرتبہ صلوات بھیجے گا خداوند عالم اور ملائکہ کی ایک ہزار صف اس پر صلوات بھیجے گی اور کوئی بھی مخلوق خدا باقی نہ رہ جائے گی مگر یہ کہ وہ بھی خدا اور ملائکہ کے صلوات کی وجہ سے اس پر صلوات بھیجے گی۔ پس اگر کوئی شخص ایسی رحمت کے حصول کی رغبت نہ رکھے تو وہ جاہل اور غافل ہے اور خدا، رسولﷺاور اہل بیت (ع) اس سے بیزار ہیں۔(اصول کافی، ج۲،ص۲۹۴،ح۵۱)