فوری رابط: ۱۹۵۱-۲۵۵۳۶۶۹۱
Mainbanner

شیخ ابراہیم زکزاکی پر ظلم و ستم کی انتہا، انجمن شرعی کا احتجاجی جلوس

23 سال بعد جرم بے گناہی میں قید کشمیری نوجوانوں کی رہائی انصاف سے بعید۔آغا حسن سرینگر/افریقی ملک نائجیریا کے اعلیٰ پایہ اسلامی اسکالر اور مبلغ آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزاکی کی جیل میں تشویشناک حالت زار اور حالت اسیری میں موصوف کی زندگی کا خاتمہ کرنے کے حکومتی ارادوں کے خلاف وادی بھر میں… View Article

23 سال بعد جرم بے گناہی میں قید کشمیری نوجوانوں کی رہائی انصاف سے بعید۔آغا حسن

سرینگر/افریقی ملک نائجیریا کے اعلیٰ پایہ اسلامی اسکالر اور مبلغ آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزاکی کی جیل میں تشویشناک حالت زار اور حالت اسیری میں موصوف کی زندگی کا خاتمہ کرنے کے حکومتی ارادوں کے خلاف وادی بھر میں احتجاجی جلوس برآمد کئے گئے۔ اس سلسلے کا سب سے بڑا جلوس انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر کے اہتمام سے نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد قصبہ بڈگام میں تنظیم کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی قیادت میں برآمد کیا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقعہ پر آغا حسن نے آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزاکی کے عزم و استقامت کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ موصوف پر انتہائی من گھڑت اور بے بنیاد الزام لگاکر نائجیریا کی حکومت اس مایہ ناز عالم دین کی زندگی کے خاتمے کی کوششیں کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیخ زکزاکی کا شمار دنیا کے ان بلند پایہ مبلغین میں ہوتا ہے جنہوں نے عوام کے سامنے اسلام کی حقیقی فکر اور تصویرکو پیش کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ شیخ زکزاکی نے نائجیریا میں دینی بیداری کی مہم چلائی، عوام کو قرآن و سنت اور عترت سے تمسک کی دعوت دی۔ یہی موصوف کا سب سے بڑا جرم ہے۔ آغا حسن نے کہا کہ نائجیریا کی مغرب نواز حکومت اور امریکہ و اسرائیل کو اس مرد صالح کی اسلام نواز روش گوارا نہیں ہوئی اور ان ہی قوتوں کے آشرواد پر حکومت نائجیریا نے شیخ زکزاکی اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ سفاکانہ سلوک روا رکھا۔ موصوف کے کئی فرزند شہید کئے گئے یہاں تک کہ ان کی ناموش کو بھی پابند سلاسل بنایا گیا۔ لیکن موصوف کے عزم و ایمان میں کوئی لگزش پیدا نہیں ہوئی۔ آغا حسن نے کہا کہ شیخ زکزاکی کے حوالے سے نائجیریا کی عدلیہ کے واضح فیصلے کے باوجود موصوف کو رہا کرنے سے حکومت کا انکار اسلام اور انسانیت دشمنی کی بدترین مثال ہے۔ شیخ زکزاکی کی حالت زار پر انسانی حقوق کے عالمی دعویداروں کی مجرمانہ خاموشی پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے آغا حسن نے کہا کہ ایک بلند پایہ اسلامی مبلغ پر جبر و ستم کی تنہا تمام مسلمانوں کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ دریں اثنا آغا حسن نے تین کشمیری نوجوانوں کو23 سال بعد عدالت کی طرف سے بے گناہ قرار دئے جانے کے بعد رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان نوجوانوں کی جیل میں نصف عمر گزرنے کے بعد بے گناہ قرار دیکر رہائی انصاف سے بعید ہے۔ یہ نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی کا بدترین واقعہ ہے بلکہ بھارتی عدلیہ کی اعتباریت کے آگے ایک سوالیہ نشان بھی ہے جو 23 سال تک ان بے گناہ نوجوانوں کے ساتھ انصاف کرنے سے قاصر رہی۔