فوری رابط: ۱۹۵۱-۲۵۵۳۶۶۹۱
Mainbanner

شہید آغا سید مہدی

بیسوی صدی کے دور میں خاندان موسوی میں حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید مصطفی الموسوی االصفوی ؒ کے گھر

میں10شعبان 1378ھ بمطابق 19فروری1959ء کو ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام اپنے جد امجد سرکار آیت اللہ آغا سید مہدی موسوی الصفوی علیہ رحمہ کے نام یعنی مہدی رکھاگیاجو بعد میں جوان ہوکر قوم و ملت کا چشم و چراغ بن گیا۔ کشمیرمیں ایک زلزلہ سا آگیا جب 3نومبر2000ء کو یہ جوا ن ماگام جاتے ہوئے مازہامہ کے مقام پرایک خفیہ سازش کے تحت ساتھیوں سمیت بم دھماکے سے شہید کر دئے گئے۔لاکھوں کی تعداد میں عوام نے اس مرد مجاہد کے ٹکڑے ٹکڑے بدن کا نماز جنازہ ادا کیا۔چہارم تک بڈگام میں عاشورہ کا سماں رہا اور ہر طرف آہ وزاری کی فلک شگاف صدائیں گونجتی رہی۔

شہید آغا سید مہدی کا تعلق صرف مسلمان سے ہی نہیں بلکہ تمام لوگوں سے تھا جو حق ق حقیقت کے طالب اور اعلیٰ انسانی اقدار کے قائل تھے ۔آج اسلامی علوم ، معارف عدالت و پاسداری حق اور ظلم و تجاوز کے خلاف جدوجہد میں مصروف عمل ہے اس وقت پریشانیوں اور بدعنوانیوں کا ساری دنیا بالخصوص عالم اسلام کو اپنے چنگل میں گرفتار کر رکھا ہے ۔اس صورتحال کے مد نظر وقتی طور شہید آغا سید مہدی نے سیاست سے ناطہ جوڑ دیا تھامگر جب اسکے بنیادی اغراض و مقاصد مجروح ہونے لگے تو وہ سیاسی پارٹیاں جوڑ کر ایک نئی سوچ کو عمل جامہ پہنانے میں مصروف عمل ہوگئے تھے ۔انہوں نے ایسے ایسے افراد کی تلاش شروع کر دی تھی جو اُسی کی طرح بے لوث اور بے غرض ہوکر آزاد انسانوں کا محاذ قائم کر سکیں مگر دولت پرستی ،اقتدار پرستی اور طاغوت پرستی نے شہید آغا سید مہدی کو اس مقدس اورر پاک مقصد کو عملی جامہ پہنانے سے پہلے ہی موت کے گھاٹ اتاردیا۔

شہید اول سے آخر تک جبر استبداد کے عفریتوں کیلئے خطرہ کا سرچشمہ تھے ۔شہید آغا سید مہدی کی خدمات سے کون واقف نہیں ۔انہیں ہر مسلک و مذہب لے لوگ اپنا مسیحا مانتے تھے۔علاوہ ازیں شہید اپنی عظیم خود عتمادی،اپنی قابل رشک شجاعت اور اپنی لا مثال بیباکی سے ہر دل میں گھر کر گئے تھے۔ان کے کھونے سے کشمیری قوم کو وہ نقصان ہوا جس کا اندازہ لگانامشکل ہے۔ شہید مظلوم نے اول سے آخر تک اپنی مسلسل طولانی جدوجہد کے ذریعے اس خطہ ارض کو بدلانا چاہا تھا ،ہماری پریشانیوں اور ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھائیں اور صدائے احتجاج بلند کیں۔خود ہمارے درمیان باقی نہیں ررہاکہ جس نے قوم کے نوجوانوں کو زندہ رہنے اور موت سے ہم آغوش ہونے کا سلیقہ سکھایا آج وہ اپنے عاشقوں کے درمیان نہ رہا مگر گراں قدر خزانہ محبت کا،اخوت کا،بھائی چارے کا،بہادری کا،شجاعت کا،ظلم کیخلاف آواز اٹھانے کا،ظالم اور جابر کیخلاف صف آراء ہونے کا،امیر و غریب میں فرق مٹانے کا،کمزور اور طاقتور میں فاصلہ مٹانے کا سبق پڑھایا اور سیکھایا۔ فرزند مصطفی شہید آغا سید مہدی نے خطے کشمیر خصوصاًشہر ودیہات کو فورسز کے قتل و غارت سے بچانے میں تاریخ ساز رول ادا کیا۔بلا لحاظ مسلک و مذہب ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں کو آرمی و ایس او جی کے قتل گاہوں اور انٹروگیشن سینٹروں سے زندہ واپس نکالا۔

شہید مظلوم آغا سید مہدی مجالس و ماہ محرم کے دوران غم حسین ؑ میں نوحہ خواں رہتے تھے اور اپنی جوشیلی آواز میں تقاریران کی روانی،انداز بیاں کربلا والوں کی شجاعت کے کارنامے انکی ایسی باتیں ہیں جوو رہ رہ کر تڑپاتی ہیں ۔ان کا قول ہوتا تھا کہ قرآن کریم کے ساتھ خصوصی لگاؤ رکھو ،اسلامی احکام اور فرمودات محمد و آل محمد (ص)کی مکمل پیروری میں رستگای کی آخری کنجی ہے۔ آپ آستانہ بڈگام میں مدفون ہیں۔