تعارف جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان

کشمیری مورخین کی یہ متفقہ رائے ہے کہ حضرت میر شمس الدین اراکی ؒ کشمیر میں شیعہ مسلک کے بانی اوراولین داعی ہیں۔ اگر چہ آپ سے پہلے بھی کئی ایک شیعہ داعیان دین اسلام کشمیر وارد ہوئے ہیں جن میں شرف الدین موسوی کا نام سر فہرست ہے تاہم ان حضرات نے ناساز گار ماحول کی بنا پر کشمیر میں مسلک امامیہ کو متعارف کرانے سے گُریز کیا۔ میر شمس الدین کا اصل نام سید محمد الموسوی الصفوی تھا جو ایران کے مشہور روزگار سلطان سید صفی الدین کے فرزند سید سلطان ابراہیم کے فرزند اکبر تھے۔ حضرت میر اراکیؒ پہلی بار سلطان حسین والی خراسان کے سفیر کی حیثیت سے وارد کشمیر ہوئے اور اپنی مدت سفارت پورا کر کے ۸۹۰ ؁ھ میں واپس ایران چلے گئے ۔دو سال ایران میں رہنے کے بعد اپنے پیرو مرشد سید محمد نور بخش کی ہدایت پر بغر ض تبلیغ دین دوبارہ کشمیر آئے۔ میر اراکیؒ نے ۹۰۲ ؁ھ میں کشمیر آکر باضابطہ طور پر مسلک امامیہ کے تبلیغ و تشہیر کا مشن شروع کیا اُن کی تقویٰ شعاری اور روحانی کمالات دیکھ کر لوگ جوق در جوق مسلک امامیہ کے گرویدہ ہو گئے۔آپ نے۹۱۰ ؁ھ میں جڈی بل سرینگر میں تبلیغی مرکزی کے طور پر ایک شاندار خانقاہ کی تعمیر عمل میں لائی۔ آپ کی قابلیت اور امانت داری سے بادشاہ وقت سلطان محمد شاہ کافی متاثر ہوئے بادشاہ نے خانقائے ہمدانیہ کا نظم و نسق بھی میر اراکیؒ کے حوالے کیا واضح رہے کہ خانقائے ہمدانیہ کی سنگ بنیاد سالار عجم حضرت میر کبیر سید علی ہمدانی ؒنے ر کھی اور اُن کے فرزند میر محمد ہمدانی ؒ نے اس خانقاہ کی تعمیر کو پایہ تکمیل تک پہنچایا تھا۔ کشمیر میںلوگوں کی خاصی تعداد کو مسلک شیعہ کے دائرے میں لانے کے بعد حضرت میر اراکیؒ نے کرگل ، تبت اور لداخ میں جا کر مسلک شیعہ کی تبلیغ کی یہاں کے لوگوں نے میراراکی ؒ کی نہ صرف اتباع کی بلکہ سونے چاندی کی صورت میں کافی مال و متاع تبلیغی سرگرمیوں پر خرچنے کی نیت سے میراراکی ؒ کو دیا میراراکی ؒ پھر کشمیر آئےاورخانقائے جڈی بل سرینگر کو وسعت دی بلکہ کئی مساجد اور امام بارگاہیں تعمیر کرائی۔ ۹۳۲ ؁ھ میں آپ کی وفات ہوئی آپ کے سب سے بڑے فرزند میردانیال ؒ نے اپنے والد کے تبلیغی مشن کی تولیت کے فرائض انجام دئے انہی ایام میں افغاستان کا انتہائی شیعہ دشمن سپہ سالار بادشاہ ہمایوں کی جانب سے کشمیر وارد ہوا اور یہاں کے بادشاہ کے دربار میں عزت افرائی پائی آہستہ آہستہ یہ شخص بادشاہ کے خاص مشیروں کی صف میں شامل ہوا ان ایام میں میر اراکی ؒ کے جانشین میر دانیال ؒ دشمنوں کے شر سے محفوظ رہنے کی غرض سے تبت میں رہائش پذیرہوئے تھےاور وہاں تبلیغ دین کا مشن آگے بڑھا رہے تھے ۔مرزا کاشغری نے میر دانیال ؒ کو تحفظ دینے کا وعدہ دیکر تبت سےکشمیر لوٹ آنے کی دعوت دی ۔میردانیال ؒ کشمیر لوٹ آئے اور چند ہی مدت بعد مرزا کاشغری نے میردانیال ؒ کو ۹۵۷؁ھ میں شہید کروایا۔ میر دانیال ؒ کی شہادت کے بعد اُن کے فرزند سید علی دانیال ؒ نے اپنے والد اور دادا کے تبلیغی مشن کی زعامت سنبھالی اب کشمیر میں شہمیر خانوادے کی حکومت ختم ہو چکی تھی اور چک خاندان کا پہلا بادشاہ سلطان غازی چک حکمران ہواتھا چک خاندان مسلک کے اعتبار سے شیعہ تھا اس لئے شیعہ مسلک کی تشہیر و ترویج کی راہ میں رُکاوٹیں آہستہ آہستہ دور ہو رہی تھی ۔میر علی دانیال ؒ نے 30سال تک بڑے زور و شور سے تبلیغ دین کاکام کیا یہ مرد حق بھی بالآخر ایک حاسد گروہ کے ہاتھوں گریند کلان بڈگام گاؤں میں شہید کئے گئے یہ ۹۹۴ ؁ھ کا واقعہ ہے ۔ آپ کی شہادت کے بعد آپ کے فرزند سید محمد نے اس مشن کو آگے بڑھایا سید محمد الموسوی ؒ کے بعداُن کے فرزند سید علی الموسوی ؒ پھر اُن کے فرزند سید حیدر ؒ نے تبلیغ دین کے اس عظیم مشن کی قیادت کی اس طرح یہ اس خانوادہ کا ایک روایتی اصول و دستور رہا کہ خانوادہ کا بزرگ ترین عالم دین ہر دور میں اپنے آباء و اجداء کے تبلیغی مشن کی زعامت کے منصب پر براجمان ہوتا رہا اور دیگر افراد خانوادہ زعیم خانوادہ کی ہر سطح پر اطاعت و فرمان برداری کرتے رہے زعامت کا یہ اصول و دستور برابر آگے بھی قائم و دائم رہایہاں تک یہ سلسلہ آغاسید حیدر الموسوی ؒ تک پہنچا۔

آغاسید حیدر الموسوی ؒ نے اپنے فرزندآیت اللہ العظمیٰ آغا سید مہدی الموسوی ؒ کو حصول علم و دین کیلئے نجف روانہ کیا اپنی ذہانت ، قابلیت اور تقویٰ شعاری بنا پر سرکار آغا سید مہدی ؒ درجہ اجتہاد پر فائز ہوئے۔28سال بعد نجف سے حصول تعلیم کے بعد آپ کشمیر میں مصروف تبلیغ ہوئے اور مومنین نے اس تبلیغی مشن کو منظم کرنے کیلئے <اراضی نقد و جنس کی شکل میں نذر و نیاز دیناشروع کیا یہاں سے ہی اوقاف انجمن شرعی شیعیان کی داغ بیل پڑی اوراس دور میں تنظیم کا ابتدائی نام انجمن موسوی رکھا گیا تھا۔ آپ کی وفات کے بعد آغا سید محمد الموسوی ؒ جو خانوادہ کی بزرگ ترین علی شخصیت تھی خانوادہ کے اصول و دستور کے مطابق تنظیم کے قائد مقرر ہوئے آپ نے لوگوں کے پاس جا کر اوقاف انجمن موسوی (موجودہ انجمن شرعی شیعیان )کو وسعت دینے کیلئے معاونت طلب کی ۔آغا سید محمد الموسوی ؒ کی وفات کے بعد آپ کے فرزند آغا سید احمد الموسویؒ تنظیم کے قائد ہوئے۔ اوقاف کو وسعت دینے کیلئے اور منظم کرنے کے حوالے سے آپ کی خدمات سب سے نمایاں ہیں آج انجمن شرعی شیعیان کے اہم وقوفات جس رقبہ اراضی پر قائم ہیں ۔اُس رقبہ اراضی کا بیشتر حصہ مومنین نے سرکار آغا سید مہدی ؒ سے لیکر آغا سید احمد الموسوی کے دور تولیت میں ہی وقف کیا تھا ۔ آغا سید احمد الموسوی کی وفات کے بعد دستور خانوادہ کے مطابق اُن کے برادر اصغر آیت اللہ سید یوسف ؒ جو خانوادہ کی بزرگ علمی شخصیت تھی قیادت کے منصب پر براجمان ہوئی ۔ آیت اللہ آغا سید یوسف الموسوی ؒ نے تنظیم کا نام بدل کر انجمن شرعی شیعیان رکھا اور بذات خود تنظیم کا آئین اساسی مرتب کیا جو ایقاذالعباد کے نام سے موسوم ہے۔ ایقا ذالعباد میں بانی انجمن شرعی شیعیان آغا سید یوسف ؒ نے دیگر امورات کے علاوہ اپنے بعد تولیت کے حوالے سے واضح کیا کہ میرے بعد خانوادے کے دستور کے مطابق میرا برادر زادہ اور آغا سید احمد الموسوی کے فرزند حجۃ الاسلام آغا سید مصطفی الموسوی ؒ تنظیم کے سربراہ ہوں گے ۔چونکہ آغا سید مصطفی الموسوی ؒ نے اپنی ساری زندگی آیت اللہ یوسف الموسوی ؒ کی اطاعت و فرمان برداری میں صرف کی بلکہ اکثر اوقات جان ہتھیلی پر لے کر اپنے قائدکے احکام کو عملی جامہ پہناتے رہے آج بھی شیعیان کشمیر اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ اگر آیت اللہ آغا سید یوسف ؒ کو اپنے برادر زادہ آغا سید مصطفی جیسا مشیر و معاون میسر نہ ہوتا تو انجمن شرعی شیعیان کا قیام ہی نا ممکن تھا۔

بانی انجمن شرعی شیعیان کے وفات کے بعد آیت اللہ آغا سید یوسف ؒ کی وصیت اور خانوادہ کی سنت و روایت کے مطابق حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید مصطفی الموسوی ؒ تنظیم کے سربراہ ہوئے۔ حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید مصطفی الموسوی ؒ کے وفات کے بعدجب وادی کی پوری شیعہ براداری اُ ن کے جلوس جنازے میں اُمنڈ آئی تو اس موقعہ پر عوام نے حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی کوبھرپور اعتماد دے کر زعامت کے منصب پربراجمان کیا ۔ اس طرح آغا سید مصطفی ؒ کی وفات کے بعد قوم کے زبردست تابند حمایت سے حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی کی سربراہی میں جموں وکشمیرانجمن شرعی شیعیان ارتقا کے منازل طے کرتی رہی ۔ موجودہ سربراہ نے انجمن شرعی شیعیان کے اوقاف کو کافی وسعت دی بہت سی خستہ اوقاف کی عمارتوں کو از سر نو تعمیر کیا گیا جس میں آستانہ شریف حضرت میر شمس الدین اراکی ؒ واقع چاڑورہ ، خانقائے میر شمس الدین اراکی ؒ جڈی بل سرینگر کی تجدید نو، حوزات علمیہ میر گنڈ بڈگام اور مکتبۃ الزھرا ؑ حسن آباد سرینگر ، مرکزی امام باڑہ بڈگام کی مرمت و زیبائش ، مساجد وغیرہ شامل ہیں۔ سیاسی طور پر موجودہ سربراہ نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے نمایاں سیاسی کردار کی بنا پر تنظیم کو عالمی سطح پر متعارف کرایااور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یورپ ، افریقہ ،ایشیاء میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنسوں میں صدر متحرم شریک ہوئے ۔تنظیم کی روزافزو ں ترقی اور فعالیت کی بنا پر کل جماعتی حریت کانفرنس نے تنظیم کو ایگزیکٹیو باڑی کا ممبر بنایا۔