فوری رابط: ۱۹۵۱-۲۵۵۳۶۶۹۱
Mainbanner

تاریخی جلوس ہائے عاشورا پر قدغن ہٹائی جائے، انجمن شرعی کا پرزور مطالبہ

باب العلم ہائرسکنڈری اسکول بڈگام میں حفظ و قرآت کے پروگرام کا افتتاح سرینگر/انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر نے لالچوک سرینگر سے 8 اور 10 محرم کو برآمد ہونے والے تاریخی جلوس ہائے عاشورا پر 28 سال سے لگی حکومتی قدغن کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے گورنر انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا… View Article

باب العلم ہائرسکنڈری اسکول بڈگام میں حفظ و قرآت کے پروگرام کا افتتاح

سرینگر/انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر نے لالچوک سرینگر سے 8 اور 10 محرم کو برآمد ہونے والے تاریخی جلوس ہائے عاشورا پر 28 سال سے لگی حکومتی قدغن کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے گورنر انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا کہ خالص مذہبی نوعیت کے ان جلوسوں پر لگی پابندی کو بلا تاخیر ہٹایا جائے تاکہ اس سال ان جلوسوں کی برآمدگی اپنی روایتی شان اور احترام کے ساتھ انجام دی جاسکے۔ انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے کہا کہ یہ جلوس ریاست کے تمام طبقہ ہائے فکر کے لوگوں کیلئے یکسان عقیدت و احترام کے حامل ہیں۔ ان جلوسوں پر برسہا برس سے بلاجواز پابندی شیعیان کشمیر کے دینی جذبات کو مجروح کرنے کی ایک بدترین مثال ہے۔ ترجمان نے کہا کہ جب حکومت سینکڑوں کلومیٹر مسافت والی امرناتھ یاترا جو ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہتی ہے کیلئے حفاظتی بندوبست کرسکتی ہے تو چند کلومیٹرمسافت والے اور چند گھنٹوں تک جاری رہنے والے جلوس ہائے عاشورا کیلئے ایسا کرنے سے کیوں قاصر ہے۔ اب جبکہ ماہ محرم بہت قریب آرہا ہے گورنر انتظامیہ اس حوالے سے بلا تاخیر قدغن ہٹانے کے سلسلے میں اقدامات کریں تاکہ ان جلوسوں کا اہتمام و انتظام کرنے والی دینی تنظیمیں اپنی تیاریاں مکمل کرسکیں۔ باب العلم ہائر سکنڈری اسکول بڈگام میں انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے المصطفیٰ دارالقرآن کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں طلباء و طلاب کو حفظ و قرأت کی تربیت دی جائے گی۔ افتتاحی تقریب کے موقعہ پر تنظیم کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی مہمان خصوصی تھے۔ حجۃ الاسلام سید کرار جعفری کی نگرانی میں اس تربیتی کیمپ میں شامل طلاب اور اسکول کے تدریسی عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آغا حسن نے حفظ کلام اللہ کی اہمیت اور اجرو ثواب پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ آغا حسن نے اعلان کیا کہ دارالقرآن میں قرآن کریم حفظ کرنے والے طلباء و طالبات کو تعلیمی اخراجات وغیرہ میں خصوصی رعایت دی جائے گی اور انہیں اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے کیلئے حتی المقدور معاونت کی جائے گی۔