فوری رابط: ۱۹۵۱-۲۵۵۳۶۶۹۱
Mainbanner

آغا سید حسین موسوی الصفوی

بڑی شوق سے سن رہا تھا زمانہ تم ہی سو گئے داستان کہتے کہتے بیسوی صدی کے دور میں سعادات موسوی آغا خاندان بڈگام میں 4محرم الحرام1361ھ بمطابق 22جنوری1944ء حضرت شمس العارفین حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید احمد الموسوی الصفوی ؒکے عہد ریاست میں متولد ہوئے چنانچہ موصوف آپ کے دادا تھے ۔آپ کی والدہ حضرت کہف الانام حجۃ الاسلام والمسلمین الحاج آغا سید یوسف الموسوی الصفوی ؒ کی دختر نیک تھیں۔آپ حجۃ السلام والمسلمین الحاج آغا سید مصطفی الموسوی الصفوی ؒکے فرزند ارجمند تھے۔ جب1370ھ میں جامع باب العلم کا افتتاح ہوا اس وقت آپ کی عمر 8سال کے قریب تھی۔اس وقت سے آپ نے 16سالہ کے طول عرصہ تک جامع ہذا میں تحصیل علم کیا ۔اسی دوران آپ نے مولوی،مولوی عالم و مولوی فاضل کے مدارج طے کئے اور مزید اپنے نانا سے بھی کسب فیص کیں۔اس کے بعد جب آپ کو آباء کرام کے نقش پر گامزن ہونے کیلئے مزید تحصیل علم کیلئے نجف اشرف عراق روانہ ہوگئے۔آپ نے معقولات و منقولات میں کمال حاصل کیا اور حضرت آیت اللہ العظمیٰ الحاج امام سید محسن الحکیمؒ،حضرت آیت اللہ العظمیٰ روح اللہ موسوی خمینی ؒ، حضرت آیت اللہ الکبریٰ ؒ،الحاج سید ابوالقاسم الخواؤوئی ؒاور آیت اللہ شہید مصطفی ٰ خمینی ؒ کے خواص میں شامل ہو گئے۔آپ نے انقلاب اسلامی کو آگے بڑھانے میں کافی کام کیا اور خط و کتابت اور لٹریچرر کے ذریعہ کشمیر ی قوم کو بھی اسی زمانے سے آگاہ و بیدار کیا۔آپ تحریر الوسیلی اور حکوومت اسلامیہ کے بے شمار نسخے روانہ کئے اور حلقہ خواص و دانشجویان میں ایک ولولہ پیدا کیا۔اس سے قبل جبکہ حضرت امام حکیم ؒ مرجع تقلیدتھے،آپ کو ان کے دربار میں خاص مقام حاصل تھا اسلئے آپ نے عراقی کی بعثی حکومت اور اسرائیل و صیہونیوں کیخلاف کافی کام کیا اور عراق عرب میں 6سال کا عرصہ صرف کر کے علماء و مراجع سے اجازت لیکر وطن کی طرف رجوع کیا مگر یہاں پر آپ کو لوگوں کے سامنے آنے کے مواقعی میسر نہیں ہوئے اور گوشہ عزلت میں پڑے رہے۔بالآخر جب آپ حسن آباد میں امام جمعہ مقرر ہوئے تو لوگوں کو آپ کی قدر و قیمت معلوم ہوگئی اور رفتہ رفتہ آپ کے بیان اور مواعظ کا چرچا عام ہوگیا اور لوگ آپ کے حلقہ بگوش ہوگئے۔اسی ضمن میں دوبار ایران تشریف لے گئے اور آپ نے تہران میں منعقدہ عالمی آئمہ جمعہ کانفرنس میں بھی شرکت کی اور امام امت و معروف شخصیات سے ملاقات کی۔ آپ نے کشمیر کے علاقہ اوڑینہ اور سونہ پاہ کے علاوہ کئی اہم مقامات پر نماز جمعہ برپا کرائی اور موضوع شالنہ میں ایک دینی مدرسیے کیلئے ایک عالیشان عمارت تعمیر کر کے اس میں درس و تدریس کا انتظام کیا۔آپ جامع باب العلم کو ایک عظیم درسگاہ بنانے کے متمنی تھے ۔آپ کے بیانات سے سیاست اور انقلاب کی خووشبو مہکتی تھی۔نجف اشرف سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد آپ دن رات ایک حیرت انگیز انقلاب کے خواب دیکھتے اورفرقہ بندی کو ختم کرنے کے لئے کوشاں رہے ۔آپ اپنے زمانہ کے حقیقی ولایت مدار مانے جاتے ہیں ۔آپ نے اپنے دور میں شیعہ سنی دوریاں مٹانے کیلئے کئی اہم اقدام اٹھائے ۔42سال کی عمر میںیہ شمع فروزاں یکا یک گل ہو گئے۔آپ اچانک بیمار ہو گئے جس کی وجہ سے آپ کو پہلے سرینگر کے اسپتال میں داخل کیا گیا اور بعد میں آپ کو آل انڈیا میڈیکل انسٹی چیوٹ منتقل کیا گیا مگر آپ کافی علاج و معالجہ کے باوجود جانبرد نہ ہو سکے اور مورخہ14جماد الاول1404ھ بمطابق16فروری1984ء شب جمعہ 9بجے داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔انا للہ وانا الیہ واجعون۔آپ کی خبر وفات سے ساری شیعہ قوم ہل گئی اور بڈگام میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ ماتم کناں جع ہوگئے ۔۔ آپ آستانہ شریف بڈگام میںمدفون ہیں۔